الہ آباد،29؍اپریل ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )یوپی بورڈ کی 10ویں اور 12ویں کے نتائج ایک ساتھ اعلان کردیئے گئے ہیں۔10ویں میں جہاں 75فیصد طلبہ وطالبات پاس ہوئے ہیں وہیں 12ویں میں 72فیصد اسٹوڈنٹس پاس کے اعلان کیے گئے ہیں۔نتیجہ بورڈ کے ہیڈکوارٹر الہ آباد سے جاری کئے گئے۔
آپ کو بتا دیں کہ اس سال 60 لاکھ سے زیادہ طالب علم 10ویں اور 12ویں کے بورڈ امتحان میں شامل ہوئے تھے۔10 ویں کلاس کے تقریبا 37 لاکھ اور 12 ویں کلاس کے 29 لاکھ سے زیادہ طالب علموں نے امتحان دیا تھا۔نقل پر سختی کے سبب 11 لاکھ 32 ہزار طلباء نے امتحان چھوڑ دی تھی۔UPMSP کی سرکاری ویب سائٹ www.upmsp.edu.in کھولیں۔اس کے بعد آپ کو بورڈ کے ہوم پیج پر آپ کو دو لنک طرح نظر آئے گا۔ ایک 10 ویں امتحان کا جبکہ دوسرا 12 ویں امتحان کا۔جب آپ اس میں سے ایک پر کلک کریں گے کچھ معلومات مانگی جائے گی۔پھر اسے بھریں۔دسویں کے ٹاپرس کی بات کریں تو الہ آباد کی انجلی ورما نے ٹاپ کیا ہے۔فتح پور کی یشسوی دوسرے اور سیتاپور کا ونے کمار تیسرے نمبر پر رہے۔12 ویں میں فتح پور کے رجنیش شکلا اور بارہ بنکی کے آکاس موریہ مشترکہ طور پر ٹاپ پر رہے۔غازی پور کی اننیا رائے دوسری اور مرادآباد کے ابھیشیک اور بارہ بنکی کے اجیت پٹیل تیسرے مقام پر رہے۔اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے نقل سے مبراامتحان کے باوجود بہتر نتائج دینے والے تمام باصلاحیت طالب علموں کو مبارک باد دی ہے اور ان کے روشن مستقبل کی دعا کی۔
انہوں نے میرٹ میں آنے والے ٹاپ 10 طالب علموں کو عزت کا اعلان بھی کی ہے۔وزیر اعلی نے ریکارڈ وقت ایک ماہ میں ہی ہائی اسکول اور انٹر کی نقل مبرا امتحانات کرانے کے ساتھ سب سے کم وقت میں نتائج جاری کرنے کے لئے امتحان منظم سے منسلک تمام لوگوں کو مبارک باد دی۔ بورڈ کے امتحان اس بار چھ فروری سے شروع ہوکر بارہ مارچ تک چلے تھے۔پہلی بار امتحان اور کاپیاں جانچنے کام سی سی ٹی وی کیمروں کی نگرانی میں کیا گیا تھا۔امتحان کے دوران اس بار ڈپٹی سی ایم دنیش شرما نے خود بہت سینٹرز پر چھاپہ ماری کی تھی۔ اس بار تمام سینٹرز پر سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے تھے۔امتحان انہی کمروں میں کرائے گئے جن میں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے تھے۔اسی طرح کاپیاں جانچنے کا کام بھی سی سی ٹی وی کیمرے کی نگرانی میں ہوئی تھی۔ یہ پہلا موقع ہے جب یوپی بورڈ کے نتیجے اپریل مہینے میں ہی اعلان کر رہے ہیں۔اس بار دسویں اور بارہویں کلاس کی میرٹ میں ٹاپ ٹین مقام پر رہنے والے اسٹوڈنٹس کی کاپیاں عوامی کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔